ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مشہور سماجی کارکن ایس آر  ہیرے مٹھ نے کہا؛ سنگھ پریوار کے رضا کار چوری چھپے گائے کا کاروبار کرتے ہیں

مشہور سماجی کارکن ایس آر  ہیرے مٹھ نے کہا؛ سنگھ پریوار کے رضا کار چوری چھپے گائے کا کاروبار کرتے ہیں

Sun, 06 Mar 2022 13:48:53    S.O. News Service

وجئے پور،  6؍ مارچ (ایس او نیوز)مشہور سماجی کارکن ایس آر ہیرے مٹھ نے وجئےپور میں  منعقدہ ایک اخباری کانفرنس میں  اس بات کا حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ   سنگھ پریوار کی چندشاخیں گائے کی حفاظت کے نام پر چوری سے گائے کا کاروبار کرنے میں ملوث ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق  انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد اور سری رام سینا کے ایسے بے شمار رضا کار اس دھندے میں شامل ہیں جو اپنے آپ کو گئو رکشا ہونے کا  دعویٰ کرتے ہیں ۔ مگر درحقیقت   گائیوں کو قصاب تک پہنچنے میں رکاوٹیں ڈالنے کا ڈھونگ رچاکر  ان رضا کاروں  کا  رابطہ  بیف کی بڑی بڑی فیکٹریوں کے  ساتھ ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایک بڑا ریکٹ ہے جہاں ایک جانب گائے کی رکشا کے نام پر ہندو مذہب کا استعمال کیا جارہا ہے تو دوسری جانب اس طرح کے نا جائز کاروبار کے ذریعہ روپیہ کمایا جارہا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ راجستھان میں اس طر ح کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور میرے پاس اس ضمن میں دستاویزات موجود ہیں۔ مندر میں رام رام ، بغل میں چھری جیسا ہندو رضا کاروں کا رویہ ہے جبکہ جن جاگرتی جتھا کے دوران یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کی رکشا کرنا چند فسطائی طاقتوں کا ناٹک ہے۔

 ہیرے مٹھ نے تین زرعی قوانین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں کسان ایک سال تک جدوجہد کرتے  رہے جس میں کئی جانیں چلی گئیں ۔ آخر کار حکومت کو کسانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مودی کو کسانوں سے معافی مانگنی پڑی نیز مذکورہ قوانین واپس لئے گئے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ریاستی بی جے پی حکومت اے پی ایم سی قوانین کو روبہ عمل لاچکی ہے اور کسانوں استحصال اس قانون سے جاری ہے۔ تاہم ہماری نتظیم اس ضمن میں ریاست میں بیداری پیدا کرنے جارہی ہے۔ 

انہوں نے ریاستی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن پالیسیوں کے سبب یہاں کے عوام پر یشان ہیں۔ خصوصی طور پر کسانوں کو خودکشی کا راستہ اختیار کرنے کی نوبت آئی ہے۔

قبل ازیں ہیرے مٹھ کی قیادت میں یہاں امبیڈ کر سرکل میں مختلف ترقی پسند تنظیموں  کی جانب  سے  مرکزی اور ریاستی حکومت  کی غلط پالیسیوں کی مخالفت میں خصوصی طور پر اے پی ایم سی قوانین ، لینڈاکوئزیشن اور گئوکشی قانون واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جن جاگرت ریلی کا اہتمام کیا گیا جس میں مزدور لیڈروں کے علاوہ ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ 


Share: